How Students Can Earn Money to Support Their Studies

 


اگر آپ پڑھنا چاہتے ہیں لیکن گھر کے حالات آپ کو تعلیم چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں، تو یہ تحریر بالکل آپ کے لیے ہے۔

پڑھنے کا شوق رکھنے والے زیادہ تر بچے غریب یا درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے گھروں میں جہاں روزمرہ کے اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہوں، وہاں یونیورسٹی کی فیسیں، کتابوں کے پیسے، بسوں کے کرائے اور ہاسٹل کا خرچ اٹھانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

بہت سے طالب علم اکثر مجھ سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ وہ کیا کریں۔ اسی لیے آج میں آپ کے ساتھ چند ایسے بالکل عمل کے قابل راستے شیئر کر رہا ہوں، جن پر چل کر آپ پڑھائی کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ کمانا شروع کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے وقت کے ساتھ ساتھ آپ نہ صرف اپنی پڑھائی کا خرچ خود اٹھانے کے قابل ہو جائیں، بلکہ اپنے گھر والوں کی مدد بھی کر سکیں۔


1. ہوم ٹیوشن اور فری لانسنگ

ہمارے ہاں عام طور پر طلبہ مالی مشکلات سے نکلنے کے لیے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں یا کسی پرائیویٹ اسکول میں جزوقتی (part-time) نوکری کر لیتے ہیں۔ اگر اپ کو مناسب معاوضے والی ہوم ٹیوشن مل جائے تو یہ اب بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔

لیکن آج کے دور میں ٹیکنالوجی نے ہمارے لیے مزید آسان راستے کھول دیے ہیں۔ میں ذاتی طور پر فری لانسنگ کو بہت پسند کرتا ہوں، کیونکہ اس میں آپ اپنی پسند اور مہارت کا کام گھر بیٹھے کر سکتے ہیں۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ فری لانسنگ شاید صرف کمپیوٹر پر تصویریں یا ڈیزائن بنانے (گرافک ڈیزائننگ) کا نام ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے! اس میں تحریر لکھنا، ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنا، ویڈیو ایڈٹ کرنا، ویب سائٹ بنانا، ڈیٹا اینٹری اور ورچوئل اسسٹنس (آن لائن منشی کا کام) جیسے بے شمار کام شامل ہیں۔

آپ کو بس اپنی پسند کی ایک مہارت چننی ہے، اسے سیکھنا ہے، اس کی مشق کرنی ہے اور پھر Fiverr یا Upwork جیسے پلیٹ فارمز پر کام تلاش کرنا ہے۔

ایک ضروری بات: صرف اکاؤنٹ بنا لینے سے پیسے نہیں ملتے۔ پہلے ہنر سیکھنا پڑتا ہے، کام کو بہتر بنانا پڑتا ہے اور کلائنٹ کا اعتماد جیتنا پڑتا ہے۔


2. ڈیجیٹل اسکلز (وہ ہنر جو آن لائن بکتے ہیں)

آج کے دور میں طالب علم کے لیے سب سے بڑا سرمایہ کوئی ایسا ہنر ہے جسے وہ بازار یا آن لائن مارکیٹ میں بیچ کر پیسے کما سکے۔

چند آسان اور اہم ہنر یہ ہیں:

 * گرافک ڈیزائننگ: دکانوں اور کاروباروں کے لیے پوسٹر، سوشل میڈیا کی تصاویر اور اشتہارات بنانا۔

 * ویڈیو ایڈیٹنگ: یوٹیوب ویڈیوز، ٹک ٹاک/ریلز اور تعلیمی لیکچرز کو درست طریقے سے کاٹ کر اور سجا کر تیار کرنا۔

 * ویب سائٹ بنانا: عام دکانوں اور اداروں کے لیے آن لائن ویب سائٹس تیار کرنا۔

 * ڈیجیٹل مارکیٹنگ: لوگوں کے فیس بک یا انسٹاگرام پیجز سنبھالنا اور ان کی چیزیں آن لائن بیچنے میں مدد کرنا۔

 * لکھنا اور ترجمہ کرنا: مضامین، بلاگز اور دیگر مواد لکھنا یا ترجمہ کرنا۔

 * ڈیٹا اینالیسس (ڈیٹا کو سمجھنا): ایکسل (Excel) وغیرہ کی مدد سے حساب کتاب اور اعداد و شمار کو ترتیب دینا۔

ان میں سے سب کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے مزاج اور وقت کے مطابق صرف ایک ہنر کا انتخاب کریں۔

یہ تمام چیزیں سیکھنے کے لیے یوٹیوب پر بے شمار مفت ویڈیوز موجود ہیں۔ پاکستان میں DigiSkills جیسے سرکاری و غیر سرکاری پروگرام بھی یہ تمام کورسز بالکل مفت کرواتے ہیں۔


3. بلاگنگ (ویب سائٹ پر لکھنا)

اگر آپ کو کسی خاص موضوع میں دلچسپی ہے یا معلومات ہیں—جیسے تعلیم، اسکالرشپس، سائنس، کتابیں، زراعت یا کوئی ہنر—تو آپ اس پر اپنے الفاظ میں لکھ سکتے ہیں۔

آپ اپنی ویب سائٹ (بلاگ) بنا سکتے ہیں یا کسی دوسرے کی ویب سائٹ کے لیے مضامین لکھ کر پیسے کما سکتے ہیں۔ اپنی ویب سائٹ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ اپ کا اپنا ایک نام اور قارئین کا حلقہ بن جاتا ہے، حالانکہ اس میں آمدن شروع ہونے میں کچھ مہینے لگ سکتے ہیں۔


4. سوشل میڈیا کے ذریعے چھوٹا کاروبار

کام کاج شروع کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی بہت عجیب یا نیا کاروبار ایجاد کیا جائے۔ کبھی کبھی اپنے علاقے کی کسی اچھی اور مشہور چیز کو صحیح خریدار تک پہنچانا بھی بہترین کاروبار بن جاتا ہے۔

مثال کے طور پر فیس بک پر میرے ایک طالب علم اپنے علاقے کے گاؤں سے ڈرائی فروٹ خریدتے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے شہروں کے لوگوں کو بیچتے ہیں۔ 

آپ کے علاقے میں بھی اگر خشک میوہ جات، ہاتھ کے بنے ہوئے سلے کڑھائی کے کپڑے، یا کوئی مقامی چیز مشہور ہے تو آپ واٹس ایپ اور فیس بک کا استعمال کر کے اسے بیچ سکتے ہیں۔ بس شروع کرنے سے پہلے چیز کی قیمت، پیکنگ اور بھیجنے (ڈیلیوری) کے اخراجات کا حساب کتاب ضرور لگا لیں۔


5. یوٹیوب پر تعلیمی ویڈیوز

اگر آپ کسی مضمون (جیسے ریاضی، سائنس، انگلش) میں اچھے ہیں تو موبائل فون سے اس کی چھوٹی چھوٹی ویڈیوز بنا کر یوٹیوب پر اپلوڈ کر سکتے ہیں۔

آپ مشکل اسباق کو آسان بنا کر سمجھا سکتے ہیں، کتابوں کا تعارف کروا سکتے ہیں یا کسی ہنر کی تربیت دے سکتے ہیں۔ یوٹیوب سے پیسے کمانے میں کچھ وقت لگتا ہے اور محنت زیادہ چاہیے ہوتی ہے، اس لیے اسے فوراً فیس دینے کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ ایک طویل مدتی منصوبے کے طور پر ساتھ رکھیں۔


6. آن لائن اسٹور یا دراز (Daraz)

اگر اپ کے پاس فروخت کرنے کے لیے کوئی سامان ہے تو بڑا شوروم یا دکان کھولنے کے بجائے دراز (Daraz)، فیس بک مارکیٹ پلیس یا واٹس ایپ کے ذریعے چھوٹا آن لائن اسٹور کھولیں۔

شروع میں بہت زیادہ سامان خرید کر نہ رکھیں؛ پہلے چھوٹے پیمانے پر تجربہ کریں، کام سمجھیں اور پھر آہستہ آہستہ کام کو بڑھاتے جائیں۔


7. ٹیوشن پڑھانا اور اپنی پڑھائی کا استعمال

یہ وہ طریقہ ہے جسے بہت سے طلبہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اگر آپ کا کوئی ایک مضمون بھی مضبوط ہے، تو اپنے سے جونیئر (چھوٹی کلاس کے) بچوں کو ٹیوشن پڑھائیں، ان کی امتحانات کی تیاری میں مدد کریں یا انہیں آن لائن پڑھائیں۔

اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کی اپنی پڑھائی بھی پکی ہو جاتی ہے، آپ خود نیا سیکھتے ہیں اور ساتھ میں عزت کا روزگار بھی مل جاتا ہے۔

(نوٹ: دوسرے بچوں کے اسائنمنٹ پیسے لے کر خود بنانے کے بجائے، ان کی رہنمائی کریں اور انہیں سیکھنے میں مدد دیں)


ان تمام طریقوں کو پڑھنے کے بعد چند باتیں اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لیں:

 * فوری معجزے کی امید نہ رکھیں: آن لائن یا ڈیجیٹل کام سیکھنے میں وقت لگتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ آج کام شروع کریں اور اگلے مہینے آپ کے پاس ہزاروں روپے آنے لگیں۔

 * اگر فیس اگلے مہینے دینی ہے تو؟ اگر آپ کو فوراً فیس جمع کروانی ہے تو صرف آن لائن کام کے بھروسے نہ بیٹھیں۔ اپنی یونیورسٹی یا کالج کے Financial Aid (مالی امدادی شعبے) سے رابطہ کریں، میرٹ یا نیڈ بیسڈ (Need-based) اسکالرشپ کی درخواست دیں، یا یونیورسٹی سے فیس قسطوں میں دینے کی درخواست کریں۔

 * کسی جزوقتی نوکری یا ہوم ٹیوشن کا انتظام کریں تاکہ فوری خرچ پورا ہو، اور ساتھ ساتھ آن لائن ہنر سیکھتے رہیں۔

ہو سکتا ہے اس وقت حالات آپ کے لیے بہت مشکل ہوں، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ کی تعلیم کے سارے راستے بند ہو چکے ہیں۔

اپنی صلاحیت پر بھروسہ رکھیں، کوئی ایک سادہ راستہ چنیں، مسلسل محنت کریں اور مالی مشکلات سے گھبرا کر تعلیم چھوڑنے کا فیصلہ جلدی میں ہرگز نہ کریں۔

(اگر آپ کو یہ تحریر مفاد بخش لگی ہو، تو اپنے ان دوستوں سے ضرور شیئر کریں جنہیں اس وقت رہنمائی اور حوصلے کی ضرورت ہے)


(کیرئیر مینٹور: ایچ۔ایم۔زکریا)