Rewiring Your Thoughts to Design Your Destiny

 


سوچ سے احساسات جنم لیتے ہیں۔ احساسات ہمارا رویہ بناتے ہیں۔ رویہ عمل میں ڈھلتا ہے۔ بار بار کا عمل عادت بن جاتا ہے۔ ہماری تمام عادات مل کر ہماری شخصیت بناتی ہیں۔ اور جیسی ہماری شخصیت ہوگی، ویسا ہی ہمارا مقدر ہوگا۔


یہ قول ہے بی کے سسٹر شیوانی کا جو کہ ایک مراقبہ کی ٹیچر اور موٹیویشنل اسپیکر ہیں، جو ذہن، جذبات، تعلقات اور خود ضبطی (Self-Mastery) پر اپنی عملی گفتگو اور مشوروں کی وجہ سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہیں۔


آج، ہماری تیز رفتار اور ڈیجیٹل طور پر منسلک زندگی ہمارے ذہن کو خوف، غصے یا محرومی کے احساس کی طرف موڑ سکتی ہے، لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم اپنی سوچ کا انتخاب خود دانشمندی سے نہیں کرتے، تو ماحول ہمارے لیے اس کا انتخاب کر دیتا ہے۔


بی کے سسٹر شیوانی ایک واضح "سبب اور اثر" (Cause and Effect) کا سلسلہ بیان کرتی ہیں جو ہماری سوچ کے ایک چھوٹے سے تجربے سے شروع ہوتا ہے اور انتہائی نمایاں سطح، یعنی ہمارے مقدر پر ختم ہوتا ہے۔

یہ قول اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارا ہر احساس ایک سوچ یا کسی صورتِ حال کے بارے میں ہمارے اپنے اندازِ فکر سے پیدا ہوتا ہے۔

جب ہم سوچتے ہیں کہ "میں محفوظ ہوں" یا "میں یہ کر سکتا ہوں"، تو ہمارا جسم اور ذہن سکون اور اعتماد کے ساتھ ردِعمل دیتے ہیں۔ جبکہ جب ہم سوچتے ہیں کہ "میں خطرے میں ہوں" یا "میں اس قابل نہیں ہوں"، تو خوف، غصہ یا اداسی ہم پر غالب آ جاتی ہے۔

وقت کے ساتھ، یہ بار بار دہرائے جانے والے جذباتی پیٹرن لوگوں، کام اور زندگی کے بارے میں ہمارا عمومی رویہ (Attitude) بن جاتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو اکثر خود کو قابلِ قدر محسوس کرتا ہے، اس کے اندر اعتماد اور کھلے پن کا رویہ پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ جسے بار بار خطرہ محسوس ہوتا ہے، وہ اپنا دفاع کرنے والا یا حد سے زیادہ محتاط بن سکتا ہے۔

یہ رویہ ہمارے اعمال میں بھی جھلکتا ہے

جس طرح ہم دوسروں سے بات کرتے ہیں، ہم اپنے کام میں جتنی محنت کرتے ہیں، اور وہ چھوٹے چھوٹے فیصلے جو ہم اس وقت کرتے ہیں جب کوئی ہمیں نہ دیکھ رہا ہو یہ سب ہمارے رویے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایک ہمدردانہ لفظ، ایک ایماندارانہ فیصلہ، یا خود سنبھالنے (Self-Care) کا ایک عمل اس لمحے میں شاید چھوٹا لگے، لیکن جب ایسے اعمال بار بار دہرائے جاتے ہیں تو وہ غیر محسوس طریقے سے ہماری عادات بن جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر، سستی یا کام کو ٹالنے کی عادت آہستہ آہستہ ضائع شدہ مواقع کا ایک سلسلہ بنا دیتی ہے؛ جبکہ روزانہ کی خود احتسابی یا مراقبہ کی عادت باطنی استحکام کا ایک نمونہ قائم کرتی ہے۔ ہماری تمام عادات مل کر ہماری شخصیت، ہمارا کردار، ہماری شہرت اور دنیا میں ہمارے روزمرہ کے طرزِ زندگی کی تشکیل کرتی ہیں۔


پھر وہ اس سلسلے کا آخری مرحلہ بیان کرتی ہیں کہ کس طرح ہماری شخصیت ہمارے مقدر کو ترتیب دیتی ہے۔

ہم جس قسم کے انسان بنتے ہیں، وہی ہمارے تعلقات کا معیار، ہمارے کیریئر کی سمت، ہماری صحت کے پیٹرن اور ہمارے باطنی سکون کا تعین کرتا ہے۔


بی کے سسٹر شیوانی کے الفاظ میں:

 "میرا ایک ایک خیال میرا مقدر لکھ رہا ہے۔"


یہ بات انہیں اس سوال پر مجبور کرتی ہے: 

"کیا ہم ایک بھی غلط سوچ پیدا کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟"

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں کامل (Perfect) ہونا پڑے گا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ اندرونی سطح پر کیے گئے چھوٹے چھوٹے فیصلے وقت کے ساتھ مل کر ایک بڑا اثر بن جاتے ہیں۔


(کیرئیر مینٹور:ایچ۔ایم۔زکریا)