صبح سویرے، جب ابھی سورج نے بھی افق سے جھانکنا شروع نہ کیا ہو اور چاروں طرف ایک مسحور کن خاموشی ہو، اچانک فضا پرندوں کے خوبصورت نغموں سے گونج اٹھتی ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ اسے محض قدرت کا ایک حسین اتفاق سمجھ کر سنتے ہیں اور مسکرا دیتے ہیں۔ لیکن سائنس کی ریسرچ اس پر کچھ اور بتاتی ہے۔
جب پورا عالم خوابِ خرگوش میں ہوتا ہے، تب یہ ننھے پرندے اتنے جوش اور جذباتی انداز میں گاتے ہیں۔
یہ صرف ایک صبح کا منظر نہیں، بلکہ بقا، حکمتِ عملی اور نظم و ضبط کی وہ داستان ہے جو ہر روز ہمیں زندگی کا ایک نیا سبق دیتی ہے۔
سائنس صبح کے وقت پرندوں کے چہچہانے (جسے Dawn Chorus کہا جاتا ہے) کے پیچھے چھپے حیاتیاتی، ماحولیاتی اور سائنسی اسباب کو بیان کرتی ہے مثلا
1. صبح کے وقت زمین کے قریب ہوا ٹھنڈی اور ہوا کی رفتار مدہم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے پرندوں کی آواز زیادہ دور تک اور صاف سنائی دیتی ہے۔ دوپہر کے وقت کی گرمی ہوا میں خلل پیدا کرتی ہے جس سے آواز بکھر جاتی ہے۔ صبح کے وقت گانے سے پرندے کم توانائی صرف کر کے دور دور تک اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔
2. نر پرندے اپنے علاقے کی ملکیت کا اعلان کرنے اور دوسرے پرندوں کو دور رہنے کی تنبیہ کے لیے صبح کے وقت گاتے ہیں۔ صبح سویرے زور دار آواز میں گانا دیگر پرندوں کو یہ بتاتا ہے کہ اس علاقے کا مالک زندہ، صحت مند اور اپنے علاقے کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔
3. پرندے کا گانا اس کی عمر، صحت اور جسمانی طاقت کا پتہ دیتا ہے۔ گانے کے لیے مضبوط پھیپھڑوں اور معقول مسلز کی ضرورت ہوتی ہے۔ مادہ پرندے صبح کے گانے کو سن کر بہترین اور طاقتور جینیات والے نر کا انتخاب کرتی ہیں۔
4. سورج نکلنے سے پہلے روشنی اتنی کم ہوتی ہے کہ کیڑے مکوڑے یا بیج تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے۔ پرندے اندھیرے میں خوراک ڈھونڈ کر توانائی ضائع کرنے کے بجائے اس وقت کو گانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور روشنی ہوتے ہی خوراک کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔
5. افزائشِ نسل کے موسم میں صبح کے وقت نر پرندوں میں ٹیسٹوسٹیرون (Testosterone) ہارمون کی سطح سب سے زیادہ ہوتی ہے، جو انہیں گانے پر ابھارتی ہے۔ جیسے جیسے دن ڈھلتا ہے اور ہارمونز کی سطح کم ہوتی ہے، ان کے گانے کی شدت اور تعدد میں بھی کمی آ جاتی ہے۔
6. چھوٹے اور کم عمر پرندے صبح کے اس کورس کو غور سے سنتے ہیں تاکہ بڑے اور تجربہ کار پرندوں سے صحیح دھنیں اور ریتھم سیکھ سکیں۔ شور شرابے والے شہروں میں پرندے ٹریفک کے شور سے بچنے کے لیے عام وقت سے بھی پہلے چہچہانا شروع کر دیتے ہیں تاکہ ان کی آواز دب نہ جائے۔
پرندوں کی آوازوں، صوتیات (Acoustics) اور قدرتی ماحول کے ڈیٹا سے جڑے جدید ترین شعبے دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ یہ وہ شعبے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت (AI)، ماحولیات اور ڈیٹا سائنس کا باہمی ملاپ ہوتا ہے۔ پاکستان میں ابھی ان کی آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن عالمی سطح پر ان کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے۔
ہمارے نوجوان ان شعبوں کو اپنا کر عالمی مارکیٹ اور ریموٹ جابز میں اپنا لوہا منوا سکتے ہیں۔
آوازوں کا ڈیٹا سمجھنے والے ماہرین
(Bioacoustic Data Analysts):
یہ ماہرین جنگلات اور قدرت میں ریکارڈ کی گئی پرندوں کی آوازوں کو کمپیوٹر سافٹ ویئر اور اے آئی (AI) کی مدد سے سمجھتے ہیں۔ وہ اس ڈیٹا سے یہ معلوم کرتے ہیں کہ کسی جنگل میں پرندوں اور جانوروں کی کتنی اقسام موجود ہیں اور ماحول کتنا محفوظ ہے۔
اس کے لیے یہ ڈگری ضروری ہے۔
بی ایس اینوائرمینٹل سائنس
بی ایس زووالوجی
بی ایس ڈیٹا سائنس
قدرتی آوازوں کے انجینئر
(Ecoacoustic Engineers):
یہ وہ لوگ ہیں جو ایسے جدید مائیکرو فون اور سینسر بناتے ہیں جو جنگلات میں خود بخود نصب ہو جاتے ہیں۔ یہ آلات دن رات پرندوں اور ماحول کی آوازیں ریکارڈ کر کے سائنسدانوں تک پہنچاتے ہیں۔
اس کے لیے یہ ضروری ڈگری ہے۔
الیکٹریکل انجینئرنگ (BS Electrical Engineering)،
سافٹ ویئر یا سسٹمز انجینئرنگ (BS Software / Systems Engineering)۔
شہری ماحول کی آوازیں ڈیزائن کرنے والے
(Urban Soundscape Designers):
یہ ماہرین سمارٹ شہروں، پارکوں اور ہسپتالوں کا نقشہ اس طرح بناتے ہیں کہ وہاں گاڑیوں کا شور کم سے کم ہو جائے۔ وہ پرندوں کی آوازوں اور قدرتی ماحول کو استعمال کر کے ایسا ماحول بناتے ہیں جس سے لوگوں کی ذہنی تناؤ کم ہو۔
اس کے لیے یہ ضروری ڈگری ہے:
آرکیٹیکچر (B.Arch)،
اربن پلاننگ (BS Urban Planning)
الیکٹریکل/صوتیات انجینئرنگ (BS Engineering Architecture)۔
زمین اور پرندوں کی دیکھ بھال کے ماہرین
(Remote Sensing & Acoustic Ecologists):
یہ لوگ سیٹلائٹ کی تصاویر اور پرندوں کی آوازوں کے ڈیٹا کو ملا کر مطالعہ کرتے ہیں۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ موسم کی تبدیلی سے پرندے کہاں نقل مکانی کر رہے ہیں اور جنگلات کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے۔
اس کے لیے یہ ضروری ڈگری ہے۔
جغرافیہ (BS Geography)،
ماحولیاتی سائنس (BS Environmental Science)
جیو انformatics (BS GIS)۔
اگر کسی طالب علم کے پاس بنیادی ڈگری (مثلاً بی ایس کمپیوٹر سائنس یا زوآلوجی) پہلے سے موجود ہے، تو انہیں چار سالہ نئی ڈگری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ صرف 3 سے 6 ماہ کے آن لائن کورسز (خصوصاً Python، Data Analytics اور GIS) مکمل کر کے ان جدید شعبوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کا طریقہ
* کمپیوٹر سائنس اور ڈیٹا سائنس کے طلبہ: وہ کمپیوٹر کے ذریعے آوازوں کو پروسیس کرنے کی مہارت اور اے آئی (AI) سیکھیں تاکہ وہ بین الاقوامی اداروں کے لیے کام کر سکیں۔
* ماحولیات اور زوآلوجی کے طلبہ: وہ بائیولوجی کے ساتھ ساتھ ڈیٹا کا بنیادی تجزیہ اور پائتھون (Python) کی زبان سیکھیں۔
* گھر بیٹھے روزگار: اس طرح کی مہارتیں حاصل کر کے نوجوان اپنے گھر بیٹھے بین الاقوامی کمپنیوں اور این جی اوز کے ساتھ آن لائن کام کر سکتے ہیں۔
سٹوڈنٹس کیرئیر کاؤنسلنگ کے لیے واٹس ایپ پر
رابطہ کریں۔
📞03374769499
(کیرئیر مینٹور: ایچ۔ایم۔زکریا)

Social Plugin