جب دباؤ بڑھتا ہے، تو اکثر لوگ اچانک کوئی بالکل مختلف شخص نہیں بن جاتے۔ وہ اکثر مزید شدت کے ساتھ وہی بن جاتے ہیں جو وہ اصل میں ہیں یا ماضی میں تھے، بجاۓ اس کے کہ وہ کیا بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پرانی عادتیں، بچاؤ کے رویے، اور جانے پہچانے انداز اکثر اس سے پہلے ہی دوبارہ ظاہر ہونے لگتے ہیں کہ ہمیں اس کا احساس بھی ہو۔ ایک ایسا لیڈر جو عام طور پر دوسروں کی بات غور سے سنتا ہے، وہ چیزوں پر قابو پانے (control) کی کوشش کرنے لگ سکتا ہے۔ ایک تعاون کرنے والا ٹیم ممبر الگ تھلگ ہو سکتا ہے۔ اور پرسکون گفتگو کو ترجیح دینے والا شخص جذباتی یا دفاعی انداز اپنا سکتا ہے۔
غیر یقینی صورتحال، دباؤ یا تھکن کے لمحات میں، لوگ اکثر انہی باتوں کی طرف لوٹتے ہیں جو انہیں مانوس اور محفوظ لگتی ہیں خواہ وہ رویے اب ان کے لیے یا ان کے ارد گرد کے لوگوں کے لیے مفید نہ بھی ہوں۔
یہ ایک وجہ ہے کہ دباؤ کے دنوں میں ثقافتی یا تنظیمی تبدیلی کا کام (culture work) کمزور معلوم ہو سکتا ہے۔ ادارے اعتماد کی تعمیر، مواصلات میں بہتری، اور بہتر قواعد و ضوابط بنانے میں مہینوں لگا سکتے ہیں، لیکن دباؤ کے آتے ہی پرانے طریقے تیزی سے واپس آ جاتے ہیں۔ لیکن دباؤ آپ کی ترقّی اور بہتری کو مٹا نہیں دیتا۔ اکثر، یہ ظاہر کرتا ہے کہ کن جگہوں پر اب بھی گہری مشق اور سہارے کی ضرورت ہے۔
یہاں پانچ ایسی تدابیر بیان کی جا رہی ہیں جو افراد اور ٹیموں کو مشکل لمحات کے دوران پرانے رویوں کی طرف لوٹنے سے بچا سکتی ہیں:
1. بغیر کسی مبالغہ آرائی کے، معروضی انداز میں اپنی کیفیت کا نام دیں
دباؤ کے دوران خود آگاہی (self-awareness) کھونے کا سب سے تیز طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے جذبات کا مشاہدہ کرنے کے بجائے خود ان کا حصہ بن جائیں۔
یہ کہنے کے بجائے کہ "سب کچھ تباہ ہو رہا ہے"، ایک زیادہ معروضی مشاہدہ کچھ اس طرح ہو سکتا ہے:
* "میں محسوس کر رہا ہوں کہ میں دفاعی انداز اپنا رہا ہوں۔"
* "میں ذہنی دباؤ محسوس کر رہا ہوں اور میری تجسس اور سیکھنے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے۔"
* "میں خود میں نتائج کو کنٹرول کرنے کی کوشش محسوس کر رہا ہوں۔"
* "میں گفتگو میں حصہ لینے کے بجائے خاموش ہو رہا ہوں۔"
اپنی اندرونی کیفیت کو معروضی انداز میں نام دینے سے اشتعال اور ردِعمل کے درمیان اتنی جگہ بن جاتی ہے کہ بہتر فیصلے ممکن ہو سکیں—اور اس سے دوسروں کو بھی یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے تاکہ وہ ہماری مدد کر سکیں۔
2. اپنے اعصابی نظام (Nervous System) کو پرسکون کرنے کی مشق کریں
جب لوگ دباؤ میں ہوتے ہیں، تو اعصابی نظام اکثر حالات کو خطرہ سمجھ لیتا ہے، چاہے وہاں کوئی جسمانی خطرہ موجود نہ بھی ہو۔ ایک بار جب ایسا ہو جائے، تو جسم "لڑو، بھاگو، جم جاؤ یا تسلیم ہو جاؤ" (fight, flight, freeze, or fawn) جیسے ردِعمل میں جا سکتا ہے، جو رویے، بات چیت اور فیصلے کرنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کرتا ہے۔
بہت سے ایسے رویے جن پر لوگ بعد میں پچھتاتے ہیں، وہ صرف ذہنیت کا مسئلہ نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ کوئی "اخلاقی خامیاں" ہوتی ہیں۔ اکثر، وہ صرف اعصابی نظام کا قدرتی ردِعمل ہوتے ہیں۔
اسی لیے اپنے اعصابی نظام کو منظم اور پرسکون رکھنا اتنا اہم ہے۔ خود کو پرسکون اور مستحکم کرنے کی صلاحیت قیادت یا ادارے کی ثقافت سے الگ نہیں ہے، بلکہ یہ اس کا بنیادی حصہ ہے۔
اعصابی نظام کو پرسکون کرنے کی تدابیر پیچیدہ ہونا ضروری نہیں ہیں۔ کبھی کبھی سب سے موثر طریقے حیران کن طور پر سادہ ہوتے ہیں:
* آہستہ اور گہرے سانس لیں
* کسی ای میل کا جواب دینے سے پہلے واک (سیر) کے لیے جائیں
* کسی مشکل میٹنگ میں بولنے سے پہلے تھوڑا وقفہ لیں
* بھرپور اور مناسب نیند لیں
* اپنے ارد گرد کے ماحول میں شدید حسیات اور توجہ بھٹکانے والی چیزوں کو کم کریں
* ذہن سازی (mindfulness) یا عبادت/دعا کی مشق کریں
* باقاعدگی سے جسمانی ورزش کریں
* باہر کھلی ہوا اور فطرت میں وقت گزاریں
جب افراد خود کو پرسکون رکھنا سیکھ لیتے ہیں، تو اس بات کا امکان کم ہو جاتا ہے کہ وہ دباؤ کو پوری ٹیم یا ادارے میں پھیلائیں۔ جو ادارے بحالی، غور و فکر اور صحت مند رفتار کو معمول بناتے ہیں، وہ ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جہاں لوگ جذباتی ردِعمل کے بجائے سوچ سمجھ کر جواب دینے کے قابل ہوتے ہیں۔
3. اپنے اختیار کے دائرے (Sphere of Control) پر توجہ مرکوز کریں
دباؤ اکثر اس وقت بڑھ جاتا ہے جب لوگ ان چیزوں کے بارے میں سوچنے میں لگ جاتے ہیں جن پر ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ مشکل اوقات میں، دوسروں کے رویے، غیر یقینی نتائج، تنظیمی فیصلوں، یا وسیع تر حالات کے بارے میں پریشان ہونا آسان ہوتا ہے۔ اگرچہ ان حقائق سے باخبر رہنا ضروری ہے، لیکن ان پر حد سے زیادہ توجہ دینا بے بسی اور جذباتی تھکن کا باعث بن سکتا ہے۔
ایک زیادہ صحت مند طریقہ یہ ہے کہ بار بار اپنے ذہن کو اس ایک سوال کی طرف واپس لایا جائے: "اس وقت اصل میں میرا کیا کام ہے؟"
کبھی کبھی اس کا جواب بہت چھوٹا ہوتا ہے:
* توقعات کو واضح کرنا
* ایک ایماندارانہ گفتگو کرنا
* کسی وعدے کو پورا کرنا
* ایک سوچا سمجھا سوال پوچھنا
* اپنی غلطی کا اعتراف کرنا
* اگلا درست قدم اٹھانا
یہ مشق لوگوں کو پریشانی کے بجائے اپنے عمل پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہے۔ صحت مند ماحول مسلسل روزمرہ کے رویوں سے بنتا ہے، نہ کہ کامل حالات کا انتظار کرنے یا دوسرے لوگوں کے بدلنے سے۔ لوگ اس وقت اپنا توازن واپس حاصل کرتے ہیں جب وہ ان اقدامات، انتخابوں اور ردِعمل پر توجہ دیتے ہیں جو ان کے اثر و رسوخ میں ہوتے ہیں۔
4. اپنے سے بڑی اور اعلیٰ حقیقت سے دوبارہ جڑیں
دباؤ انسان کی نظر کو محدود کر دیتا ہے۔ لوگ فوری مسائل، ذاتی الجھنوں، یا خوف پر مبنی سوچ میں گم ہو سکتے ہیں۔ ایسے لمحات میں، کسی بڑی اور مقصد والی چیز سے دوبارہ جڑنا ذہنی وضاحت اور لچک (resilience) کو بحال کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
کچھ لوگوں کے لیے، اس میں ایمان، روحانیت، یا دعا شامل ہو سکتی ہے۔ دوسروں کے لیے، اس میں مقصد، خدمت، خاندان، برادری، یا کسی معنی خیز کام سے لگاؤ شامل ہو سکتا ہے۔
اہم سوال یہ ہے: "وہ کون سی چیز ہے جو آپ کو یہ یاد دلانے میں مدد کرتی ہے کہ یہ کام کیوں اہم ہے؟"
مقصد مشکل دنوں میں ایک لنگر (anchor) کا کام کرتا ہے۔ یہ لوگوں کو یاد دلاتا ہے کہ بے آرامی، غیر یقینی صورتحال، اور چیلنج اکثر ترقّی کا حصہ ہوتے ہیں، نہ کہ اس بات کا ثبوت کہ ترقّی ناکام ہو رہی ہے۔ یہ خاص طور پر رہنماؤں (leaders) کے لیے اہم ہے۔ ٹیمیں اس بات سے شدید متاثر ہوتی ہیں کہ آیا ان کے قائدین دباؤ کے لمحات میں کسی بڑے مقصد سے جڑے رہتے ہیں یا وہ خوف، انا، یا خود فراری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
صحت مند ثقافت کے لیے ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو دباؤ بڑھنے پر بھی اپنی اقدار اور مقصد سے دوبارہ جڑ سکیں۔
5. ان لوگوں سے جڑے رہیں جو پہلے 4 نکات پر عمل کرنے میں آپ کی مدد کرتے ہیں
دباؤ اکثر لوگوں کو تنہائی کی طرف دھکیلتا ہے۔ طنز کی بات یہ ہے کہ تنہائی ہی وہ چیز ہے جو پرانے رویوں کے واپس آنے کا امکان بڑھا دیتی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں زمین سے جڑے رہنے، ایماندار رہنے، اور خود سے آگاہ رہنے میں مدد دے سکیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو:
* یہ محسوس کرنے میں آپ کی مدد کرتے ہیں کہ آپ کب اپنے معیار سے نیچے گر رہے ہیں
* صحت مند نقطہ نظر اپنا نے میں آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں
* آپ کو آپ کی اقدار یاد دلاتے ہیں
* آپ کے اعصابی نظام کو پرسکون رکھنے میں مدد کرتے ہیں
* ہمدردی اور پیار کے ساتھ آپ کو چیلنج کرتے ہیں
* مقصد سے دوبارہ جڑنے میں آپ کی مدد کرتے ہیں
نتیجہ
دباؤ اکثر موجودہ نمونوں کو نمایاں کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ کن جگہوں پر مزید آگاہی، سہارے، اور مشق کی ضرورت ہے۔ مقصد یہ نہیں ہے کہ دباؤ کو بالکل کامل طریقے سے سنبھالا جائے یا کبھی توازن نہ بگڑے؛ بلکہ مقصد یہ ہے کہ آپ جلد اس کا احساس کریں، تیزی سے پرسکون ہوں، اور ان لوگوں، طریقوں اور مقاصد سے جڑے رہیں جو ردِعمل دینے کے بجائے سوچ سمجھ کر عمل کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔
ایک صحت مند تنظیمی ثقافت کا مسلسل کام یہی ہے: دباؤ کو ختم کرنا نہیں، بلکہ اپنے اصل مقصد اور شخصیت کو کھوئے بغیر اس سے گزرنا سکھنا۔
(کیرئیر مینٹور: ایچ۔ایم۔زکریا)

Social Plugin