برسوں سے کیریئر میں آنے والی کسی بھی مشکل، رکاوٹ یا تعطل کا روایتی حل صرف ایک ہی لفظ کے گرد گھومتا رہا ہے اور وہ ہے "آپٹیمائزیشن"۔ اگر ملازمت میں ترقی رک گئی ہے یا نئی نوکری کی تلاش طویل ہو گئی ہے، تو روایتی طور پر یہی نسخہ تجویز کیا جاتا تھا کہ اپنے ریزیومے کو مزید نکھاریں، اپنی صلاحیتوں کو تیز کریں اور مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالیں۔ اس سارے مائنڈ سیٹ کے پیچھے یہ خاموش مفروضہ کارفرما تھا کہ کارپوریٹ سسٹم اور معاشی ڈھانچہ بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے، اور جو بھی خامی یا کمی ہے وہ خود آپ کے اندر ہے۔
لیکن حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر ہونے والی کثیر تعداد میں چھانٹیوں اور بدلتے ہوئے معاشی حالات نے اس مفروضے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ آج کیریئر کونسلنگ کی دنیا اور ملازمت سے محروم ہونے والے افراد کے حلقوں میں ایک بالکل مختلف اور گہرا سوال جنم لے رہا ہے۔ اب سوال یہ نہیں ہے کہ "میں دوبارہ اسی مقام پر کیسے پہنچوں جہاں میں پہلے تھا؟" بلکہ ایک زیادہ سچا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ "میں جس دوڑ کا حصہ بنا ہوا تھا، کیا میں واقعی وہاں ہونا چاہتا تھا؟"
آپٹیمائزیشن سے خود شناسی کا ارتقا
گزشتہ ایک دہائی سے نوجوان طبقے کو مسلسل ایک ہی سبق پڑھایا گیا کہ اندھی محنت کی جائے، دن رات ایک کیا جائے اور اپنی پرسنل برانڈنگ کو مضبوط بنایا جائے۔ لیکن آج کا پیشہ ور انسان ایک ہی وقت میں شدید ذہنی تھکن (برن آؤٹ) اور اچانک ملازمت سے دوری کا سامنا کر رہا ہے۔ اس دوطرفہ دباؤ نے اب اسے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آنکھیں بند کر کے مزید بھاگنا ان گہرے وجودی سوالات کا جواب نہیں ہے جو اس کے اندر جنم لے رہے ہیں۔
دنیا کا پورا سیلف ہیلپ لٹریچر ہمیشہ کارکردگی اور اس سوال کے گرد گھومتا تھا کہ "کیسے" یعنی زندگی کو زیادہ پیداواری کیسے بنانا ہے۔ لیکن اب نوجوان "کیا" اور "کیوں" کے سوالات اٹھا رہے ہیں:
* کیا یہ کیریئر پاتھ میں نے اپنی مرضی اور شوق سے چنا تھا یا میں حالات کے تیز بہاؤ میں بہتا ہوا یہاں تک پہنچ گیا؟
* کیا وہ اہداف جو زندگی کے ابتدائی سالوں میں میرے لیے اہم تھے، آج میرے پختہ ہوتے ہوئے اصولوں اور اقدار پر پورا اترتے ہیں؟
ماضی میں یہ سوالات مڈ لائف کرائسس یا کسی بڑے ذاتی حادثے کے بعد پیدا ہوتے تھے، لیکن اب کیریئر کا عدم استحکام نوجوانوں کو عمر کے ابتدائی حصے میں ہی ان بنیادی سچائیوں کا سامنا کرنے کی ہمت دے رہا ہے۔
ارادی ری سیٹ: بحران میں چھپا ہوا موقع
لائف ری سیٹ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان ہمت ہار کر بیٹھ جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی نوکری تلاش کرنے کے فوری اور شدید سماجی دباؤ سے کچھ دیر کے لیے پیچھے ہٹ کر زندگی کے بڑے حقائق پر غور کیا جائے:
* میرے وجود اور میری صلاحیتوں کا میری زندگی میں اصل مقصد کیا ہے؟
* میرے لیے کامیابی کا حقیقی اور شخصی معیار کیا ہے؟
* میں مجموعی طور پر کس قسم کے طرزِ زندگی اور ذہنی سکون کی تعمیر کرنا چاہتا ہوں؟
ایک شاندار ریزیومے آپ کو فوری طور پر نئی نوکری تو دلا سکتا ہے، لیکن وہ آپ کو ذہنی اطمینان کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ 'ارادی ری سیٹ' کیریئر کے اس عارضی وقفے کو ایک خامی یا ناکامی کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے ایک بہترین موقع کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ یہ وہ قیمتی وقت ہے جہاں آپ اپنے اصولوں اور ترجیحات کو واضح کرتے ہیں اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ماضی کے عزائم ضروری نہیں کہ آپ کے مستقبل کے سفر کے لیے بھی موزوں ہوں۔
کیریئر ری انوینشن بطورِ ایک جدید شعبہ
اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں ایک اور انتہائی حوصلہ افزا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے کہ کیریئر کو دوبارہ ترتیب دینے کی مہارت خود ایک مستقل اور معتبر شعبہ بنتی جا رہی ہے۔ وہ لوگ جو خود کیریئر کے ایک انتہائی مشکل، تکلیف دہ اور مبہم دور سے گزرتے ہیں، وہ آگے چل کر دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بننے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب کارپوریٹ دنیا کے متوازی چند نئے اور باوقار کردار جنم لے رہے ہیں، جیسے کہ لائف اسٹریٹیجسٹ، کیریئر ری انوینشن کوچ اور ٹرانزیشن ایڈوائزر۔
یہ شعبے روایتی کیریئر کونسلنگ اور ذاتی ترقی کے عین وسط میں ایک پل کا کام کرتے ہیں۔ اس کے پیچھے کارفرما منطق انتہائی مضبوط اور سچی ہے کہ جو شخص خود اس آگ اور ذہنی کرب سے گزر چکا ہے، وہ اس پوزیشن میں موجود دوسرے نوجوانوں کی زیادہ بہتر، ہمدردانہ اور عملی رہنمائی کر سکتا ہے۔
اپنی زندگی کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینا
پچھلی صدی میں، زندگی اور کیریئر کو ڈیزائن کرنے کی بنیادی ذمہ داری اداروں اور کمپنیوں پر ہوتی تھی۔ کمپنیاں اپنے ملازمین کو طویل مدتی استحکام، پنشن اور ترقی کا ایک طے شدہ راستہ فراہم کرتی تھیں۔ اس دور میں یہ سوچنا درست تھا کہ سسٹم مضبوط ہے اور ہمیں بس اس کا ایک وفادار حصہ بنے رہنا ہے۔
لیکن اب وہ روایتی کارپوریٹ معاہدہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ اب کوئی دوسرا ادارہ یا کمپنی آپ کی زندگی کی گاڑی کا ڈرائیور نہیں ہے۔ اس حقیقت کا ایک پہلو یہ ہے کہ انسان شروع میں خود کو تنہا محسوس کرتا ہے، لیکن اس کا دوسرا اور زیادہ خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہ طریقہ کار انسان کو مصلحتوں سے آزاد کر کے حقیقی خود مختاری عطا کرتا ہے۔
ملازمت کا اچانک ختم ہونا یا کیریئر کا غیر مستحکم ہونا یقیناً ایک تکلیف دہ اور بظاہر تاریک تجربہ ہے، لیکن بہت سے باشعور لوگوں کے لیے یہی بحران ان کی زندگی کا وہ پہلا موڑ ثابت ہو رہا ہے جہاں وہ دنیا کے بنائے ہوئے معیاروں کو مسترد کر کے اپنی زندگی کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں۔ یاد رکھیے، راستے کا مسدود ہونا سفر کا خاتمہ نہیں، بلکہ ایک نئے اور زیادہ بامقصد سفر کا آغاز ہے۔
(کیرئیر مینٹور: ایچ ایم زکریا)

Social Plugin