بچے کو پراعتماد طریقے سے بولنے والا کیسے بنائیں؟
کیا آپ اپنی زندگی میں موجود کسی چھوٹے بچے کو پراعتماد، ذہین اور بہترین گفتگو کرنے والا بنانا چاہتے ہیں؟ اکثر والدین اور اساتذہ یہ سمجھتے ہیں کہ زبان سیکھنا ایک قدرتی عمل ہے جو وقت کے ساتھ خود ہی ہو جاتا ہے۔ لیکن جدید سائنس کہتی ہے کہ اس عمل کو درست سمت دینا والدین کا کام ہے۔
سائنس کے مطابق، بچے کا دماغ پیدائش کے لمحے سے ہی گفتگو میں شامل ہونے کے لیے بالکل تیار ہوتا ہے۔ فلاڈیلفیا کے بچوں کے ہسپتال کے چائلڈ سائیکالوجسٹ روجر ہیریسن اور انسٹی ٹیوٹ فار لرننگ اینڈ برین سائنسز کی ڈائریکٹر امیلیا باچلیڈا کی تحقیق کی روشنی میں، یہاں 10 ایسے عملی طریقے دیے جا رہے ہیں جو آپ کے ننھے بچے کو مستقبل کا ایک بہترین اسپیکر بنا سکتے ہیں۔
1۔ پہلے سال کی اہمیت کو سمجھیں
بچے کی زندگی کا پہلا سال اس کی زبان اور سوچنے کی صلاحیت کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگرچہ اس عمر میں بچہ خود بول نہیں سکتا، لیکن اس کا دماغ آپ کے بولے گئے ایک ایک لفظ کو ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے۔ اس لیے اس اہم وقت کو ضائع نہ کریں۔
2۔ روزمرہ کی بنیاد پر بات چیت کریں
بچوں سے روزانہ بات کرنا آپ کے اور بچے کے درمیان تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔ یہ عمل بچے کو سکھاتا ہے کہ مواصلات (Communication) اور انسانی تعلقات کیسے کام کرتے ہیں۔
3۔ اپنے دن کی کہانی سنائیں (Run a Commentary)
اگر آپ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اتنے چھوٹے بچے سے کیا بات کی جائے، تو پریشان نہ ہوں! آپ گھر کا جو بھی کام کر رہے ہیں، اسے اونچی آواز میں بول کر بچے کو بتائیں۔ مثال کے طور پر:
"اب ابو اپنی ڈائری لکھ رہے ہیں..." یا "اب ہم پودوں کو پانی دے رہے ہیں..."۔ یہ بچے کے ذخیرہ الفاظ (Vocabulary) میں اضافہ کرتا ہے۔
4۔ 'پیرنٹیز' (Parentese) زبان کا استعمال کریں
یہ اس پورے عمل کا سب سے اہم نکتہ ہے۔ "پیرنٹیز" کا مطلب ہے ایسی زبان جس میں الفاظ کو واضح، تھوڑا کھینچ کر، پیار بھرے اور اونچی پچ (Pitch) میں بولا جائے۔ یاد رہے کہ یہ کوئی بے معنی زبان نہیں ہے، بلکہ درست الفاظ کو زیادہ تاثراتی (Expressive) انداز میں بولنے کا نام ہے۔
5۔ یہ انداز بچے کی توجہ کھینچتا ہے
جب آپ 'پیرنٹیز' انداز میں بولتے ہیں، تو بچے کا دماغ فورا الرٹ ہو جاتا ہے۔ اسے یہ سگنل ملتا ہے کہ: "یہ بات بہت اہم ہے، اس پر دھیان دو اور سیکھو کہ یہ لفظ کیسے بولا جا رہا ہے!"
6۔ "گو گو گا گا" (Baby Talk) سے پرہیز کریں
اکثر لوگ بچوں سے بات کرتے ہوئے خود بھی توتلا بولنے لگتے ہیں یا بے معنی آوازیں نکالتے ہیں۔ سائنس اس سے منع کرتی ہے۔ چیزوں کے لیے ہمیشہ درست اور حقیقی الفاظ کا استعمال کریں تاکہ بچہ الجھن کا شکار نہ ہو۔
7 'پیرنٹیز' کے طویل مدتی فوائد
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جن بچوں کے والدین ان سے 'پیرنٹیز' انداز میں زیادہ گفتگو کرتے ہیں، وہ دو سال کی عمر تک پہنچنے پر دوسرے عام بچوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ الفاظ بولنے کے قابل ہو جاتے ہیں اور ان کا آئی کیو (IQ) بھی بہتر ہوتا ہے۔
8۔ گفتگو کو یکطرفہ نہ بنائیں (ٹاک بیک کا موقع دیں)
بچے کے سامنے ریڈیو کی طرح مسلسل بولتے نہ رہیں۔ جب آپ کوئی بات کہیں، تو کچھ سیکنڈز کے لیے رکیں اور بچے کی طرف دیکھیں، گویا آپ اس کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ چاہے وہ جواب میں صرف "اوُں آں" کہے یا مسکرائے، یہ اسے گفتگو میں اپنی باری لینے کا ہنر سکھاتا ہے۔
9۔ اسکرینز کو زندگی سے نکالیں (آمنے سامنے کی گفتگو)
موبائل، ٹی وی یا ٹیبلٹ بچوں کی بولنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کرتے ہیں۔ مستقبل کا پراعتماد انسان تیار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ خود بھی موبائل کا استعمال کم کریں اور بچے کو اپنی پوری توجہ (Eye Contact) دیں۔
10۔ بس بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں
مایوس نہ ہوں کہ بچہ ابھی جواب نہیں دے رہا۔ بس اس سے گفتگو جاری رکھیں، اور بہت جلد وہ وقت بھی آ جائے گا جب وہ خود اپنے الفاظ کے ذریعے آپ کو حیران کر دے گا۔
کسی بچے کی تربیت صرف اسے کھانا کھلانے یا اچھے کپڑے پہنانے کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کے مائنڈ سیٹ اور صلاحیتوں کو نکھارنا اصل مقصد ہے۔ اگر آپ بچپن ہی سے ان کی کمیونیکیشن پر کام کریں گے، تو آگے چل کر ان کے لیے پراعتماد شخصیت کا مالک بننا اور اپنے کیریئر میں لیڈرشپ پوزیشن حاصل کرنا بے حد آسان ہو جائے گا۔
کیا آپ اپنے بچوں یا نوجوانوں کی شخصیت، ٹیلنٹ اور مائنڈ سیٹ کو نکھارنے کے لیے کسی پروفیشنل گائیڈنس کی تلاش میں ہیں؟ ہم سے ون ٹو ون کونسلنگ سیشن لینے کے لیے آج ہی رابطہ کریں!
📞03374769499
(کیرئیر کاؤنسلر: ایچ۔ایم۔زکریا)

Social Plugin