10 Unstoppable Life Lessons from Benjamin Franklin and Charlie Munger

 


مشہور سرمایہ کار چارلی منگر (Charlie Munger) ہیں وہ بنجمن فرینکلن (Benjamin Franklin) کی زندگی اور فلسفے کے بہت بڑے مداح تھے۔ وہ اکثر اپنے خطابات میں فرینکلن کی عادات کا ذکر کیا کرتے تھے۔

چارلی منگر کے مطابق ہر انسان کو بنجمن فرینکلن کے 5 اہم لائف لیسنز (Life Lessons) ضرور سیکھنے چاہئیں


1۔ بنجمن فرینکلن کا ماننا تھا کہ انسان کو کبھی بھی سیکھنے کا عمل نہیں روکنا چاہیے۔ انہوں نے زندگی بھر نئی زبانیں سیکھیں، سائنس کے تجربات کیے اور فلسفے کا مطالعہ کیا۔

چارلی منگر کہتے تھے کہ اگر آپ روزانہ رات کو سوتے وقت صبح کے مقابلے میں تھوڑے سے زیادہ ذہین یا باشعور نہیں ہیں، تو آپ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ انسان کو زندگی بھر ایک طالب علم بن کر رہنا چاہیے۔


2۔ فرینکلن کے مطابق دولت کمانے کا راز صرف زیادہ کمانا نہیں، بلکہ فضول خرچی سے بچنا بھی ہے۔ وہ وقت اور پیسے دونوں کو ضائع کرنے کے سخت خلاف تھے۔

 چارلی منگر کا کہنا ہے مالی طور پر آزاد ہونے کے لیے آپ کو اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے ہوں گے۔ 


3۔ فرینکلن انتہائی عملی (Pragmatic) انسان تھے۔ وہ کسی بھی نظریے کو اس وقت تک درست تسلیم نہیں کرتے تھے جب تک کہ وہ عملی زندگی میں فائدہ مند ثابت نہ ہو۔

 چارلی منگر کے مطابق، دنیا میں "کامن سینس" (عقلِ سلیم) اتنی عام نہیں ہے جتنی سمجھی جاتی ہے۔ فرینکلن کی طرح انسان کو جذباتی فیصلوں کے بجائے حقائق اور منطق پر مبنی عملی فیصلے کرنے چاہئیں۔


4۔ بنجمن فرینکلن اپنی غلطیوں کو چھپاتے نہیں تھے، بلکہ انہیں "املیٹ کے داغ" (Errata) کہتے تھے جنہیں اگلی بار درست کیا جا سکتا ہے۔ وہ جیسے جیسے نئے حقائق سامنے آتے، اپنی رائے بدلنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔

 چارلی منگر کا ایک مشہور قول ہے کہ ہر سال آپ کو اپنے کسی ایک پسندیدہ آئیڈیا کو رد کرنا چاہیے جو نئے حقائق سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ اپنی غلطی ماننا اور خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہی ذہانت کی نشانی ہے۔


5۔ فرینکلن نے دنیا کی پہلی پبلک لائبریری، پہلی فائر بریگیڈ سروس اور "جنٹو" (Junto) نامی ایک کلب بنایا جہاں مختلف شعبوں کے لوگ جمع ہو کر معاشرے کی بہتری اور کاروبار پر بات کرتے تھے۔ ان کا مقصد صرف خود امیر ہونا نہیں، بلکہ کمیونٹی کو فائدہ پہنچانا تھا۔

 چارلی منگر کے مطابق، حقیقی کامیابی یہ ہے کہ آپ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی فائدے کا باعث بنیں۔ ایک اچھا نیٹ ورک اور معاشرتی بھلائی کا جذبہ انسان کے اثر و رسوخ اور اندرونی خوشی کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔


6۔ وقت کی قدر اور ڈسپلن (Time Management)

بنجمن فرینکلن کا ایک مشہور قول ہے: "اگر آپ زندگی سے محبت کرتے ہیں تو وقت کو ضائع مت کریں، کیونکہ زندگی اسی وقت سے بنتی ہے۔" وہ روزانہ صبح اٹھ کر خود سے یہ سوال کرتے تھے کہ "آج میں کیا اچھا کام کروں گا؟" اور رات کو حساب لیتے تھے۔

 منگر کے مطابق، کامیاب اور ناکام لوگوں میں سب سے بڑا فرق یہ ہوتا ہے کہ کامیاب لوگ ہر فضول چیز کو 'ناں' (No) کہنے کی طاقت رکھتے ہیں تاکہ وہ اپنا وقت صرف اپنے اہم ترین مقاصد کو دے سکیں۔ وقت کا صحیح استعمال ہی آپ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔


 7۔ صبر اور کمپاؤنڈنگ کی طاقت (The Power of Patience)

فرینکلن نے سرمایہ کاری اور زندگی کے فیصلوں میں صبر کو ایک بنیادی ہتھیار مانا۔ ان کا کہنا تھا کہ "جو انسان صبر کرنا جانتا ہے، وہ جو چاہے حاصل کر سکتا ہے۔"

 چارلی منگر اور وارن بفٹ کی کامیابی کا سب سے بڑا راز "کمپاؤنڈ انٹرسٹ" (صبر کے ساتھ سرمائے اور علم کو بڑھنے دینا) ہے۔ منگر کہتے تھے کہ بڑی کامیابی کا راز خریدنے یا بیچنے میں نہیں، بلکہ صبر سے انتظار کرنے میں ہے۔ یہی اصول کیرئیر اور علم پر بھی لاگو ہوتا ہے۔


 8۔ ساکھ اور ایمانداری (Integrity and Reputation)

بنجمن فرینکلن کا ماننا تھا کہ "ایمانداری بہترین حکمتِ عملی ہے" (Honesty is the best policy)۔ ان کے نزدیک ایک بار اگر ساکھ (Reputation) خراب ہو جائے، تو اسے دوبارہ بحال کرنا ناممکن ہوتا ہے۔

 چارلی منگر ہمیشہ اخلاقیات اور ایمانداری پر زور دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کو کاروبار اور زندگی میں ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہیے جن پر آپ آنکھیں بند کر کے بھروسہ کر سکیں۔ آپ کی ساکھ آپ کا سب سے بڑا اثاثہ ہے، اسے چند پیسوں کے فائدے کے لیے کبھی داؤ پر نہ لگائیں۔


9۔ ذہنی ماڈلز اور کثیر الجہتی سوچ (Mental Models)

بنجمن فرینکلن صرف ایک سیاستدان یا تاجر نہیں تھے، وہ بیک وقت ایک مصنف، سائنسدان، موجد اور سفارت کار بھی تھے۔ وہ کسی بھی مسئلے کو صرف ایک زاویے سے نہیں دیکھتے تھے۔

 چارلی منگر اس بات کو "Latticework of Mental Models کہتے تھے۔ ان کا مشہور قول ہے کہ "اگر آپ کے پاس صرف ایک ہتھوڑا ہے، تو آپ کو ہر مسئلہ ایک کیل کی طرح نظر آئے گا۔" انسان کو تاریخ، نفسیات، معاشیات اور سائنس جیسے مختلف علوم کا بنیادی علم ہونا چاہیے تاکہ وہ زندگی کے فیصلے بہتر طریقے سے کر سکے۔


10۔ عاجزی اور دوسروں کو کریڈٹ دینا (Humility and Cooperation)

فرینکلن جب "جنٹو کلب" یا پبلک سروس کے منصوبوں پر کام کرتے تھے، تو وہ اپنی بات کو دوسروں پر تھوپنے کے بجائے عاجزی سے پیش کرتے تھے۔ وہ اکثر بحث جیتنے کے بجائے سیکھنے اور دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے تھے۔

 منگر کا ماننا تھا کہ حسد، غرور اور خود پسندی انسان کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ اگر آپ عاجزی اختیار کرتے ہیں اور کامیابی کا کریڈٹ اپنی ٹیم یا دوسروں کو دینے کا ظرف رکھتے ہیں، تو لوگ آپ کی عزت بھی کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔


یاد رکھیے، حقیقی کامیابی صرف دولت کمانا نہیں بلکہ مسلسل سیکھنا اور دوسروں کے کام آنا ہے۔ 


آئیے، آج ہی سے بنجمن فرینکلن کی ان عادات کو اپنا کر اپنے کیرئیر اور زندگی کو ایک نئی اور مثبت 

سمت دیں۔


(کیرئیر مینٹور: ایچ۔ایم-زکریا)